Nauabadiyat, Tareekh Aur Samaaj Dr Ravish Nadim نوآبادیات ، تاریخ اور سماج
ڈاکٹر روش ندیم ، جن کا روشن خیال فکری روایت سے گہرا تعلق ہے اور لیفٹ کی انقلابی سوچ کے حامل مفکر ہیں، انسانی سماج ، تاریخ اور سیاست کے بارے میں ایک واضح موقف رکھتے ہیں۔ اُن کی یہ کتاب نو آبادیات : تاریخ اور سماج انسانی تہذیب کو قدیم ، جدید اور مابعد جدید ؛ تین ادوار میں تقسیم کر کے نو آبادیات کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ کرتی ہے۔ پہلے پہل اُن کا نو آبادیات کے حوالے سے کام پاکستان: برطانوی غلامی سے امریکی غلامی تک (میری پسندیدہ کتاب) کی صورت منظر عام پر آیا اور پھر تیسری دنیا کا فلسفہ انکار کے عنوان سے کتاب اس ذیل میں قابلِ ذکر کام تھا۔ ان کتابوں کے بعد بھی وہ مسلسل اس موضوع پر لکھتے رہے۔ اُن کی ان تحریروں کو اب ڈاکٹر صنوبر الطاف نے با قاعدہ مرتب کر دیا ہے۔ یہاں تین باتیں بنیادی نوعیت کی ہیں: ایک تو یہ کہ ڈاکٹر روش ندیم آج کے مابعد نوآبادیاتی مطالعات کو مارکسی مطالعات کا ہی ایک تسلسل یا توسیع سمجھتے ہیں ۔ دوسرا یہ کہ بالعموم نو آبادیات کو ہم سولھویں صدی کے یورپی تسلط سے مخصوص کرتے ہیں اور اس سے پہلے کی طاقت ور اقوام کے غلبے کو سامراجیت سے موسوم کیا جاتا ہے؛ لیکن ڈاکٹر روش ندیم نے نو آبادیات کی ابتدا کو ماقبل عیسوی دور سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ یعنی جسے ہم سامراجیہ دور سمجھتے ہیں ڈاکٹر روش ندیم کے نزدیک وہ بھی نو آبادیات کی قدیم شکل ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ طاقت وروں کے ہاتھوں ہونے والی محکوموں کی ثقافتی تباہی یعنی ڈیسیولئزیشن کی کار فرمائی ہر دور کے نظام میں دیکھتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اب نو آبادیات سے آزادی ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ بہر حال یہ بحث طلب نقاط ہیں؛ اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب اتفاق یا اختلاف ؛ ہر دو صورتوں میں اُردو میں ایک نیا نو آبادیاتی ڈسکورس قائم کرنے میں کامیاب رہے گی۔ آئیں یہ کتاب کچھ سوچنے سمجھنے اور ردعمل دینے کے لیے پڑھیں ۔ روش صاحب کے قلم کے لیے نیک تمنائیں۔ ایم۔ خالد فیاض
Variants (1)
- Default Title — 800.00 PKR — In stock
How AI sees this product
The more complete this product's details, the more confidently AI assistants can understand and recommend it.