Gaza ke Shareer Bachay - Mustansar Hussain Tarar
’’اُن کے مرنے کے موسم بھی نہ تھے‘‘ میری لکھنے کی میز تلے.. جب میں لکھتے لکھتے تھک گیا.. تو اپنی کُرسی پر کمر کو آرام دینےکی خاطر.. اُس کی پشت سے ٹیک لگالی.. تب میں نے دیکھا.. میری لکھنے کی میز تلے.. فرش پر ایک شہد کی مکھی تڑپ رہی تھی.. وہ اپنی مہین ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرتی اور گرجاتی.. میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ جان کنی کے عالم میں ہے.. پر اُس کی جان نہیں نکل رہی تھی.. اذیت میں پھڑپھڑاتی تھی.. اُس کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی.. کیا میں اُسے اپنی چپل سے ُکچل دوں.. اُسے اس اذیّت سے نجات دلا دوں.. کیا کروں.. میں اُس کی مدد نہیں کرسکتا تھا.. جیسے میں جب جاں کنی کے عالم میں ہوں گا.. میری بھی کوئی مدد نہیں کرسکے گا.. کُچھ دیر بعد وہ ساکت ہوگئی، مرگئی.. شائد یہ اُس کے مرنے کے موسم تھے.. غزہ کے ہزاروں بچّے بھی.. اس شہد کی مکھی کی مانند، جاں کنی کے عالم میں.. کُل عالم کی آنکھوں کے سامنے.. پھڑپھڑاتے رہے.. اور کسی نے بھی اُن کی مدد نہ کی.. اور وہ مر گئے.. اور اُن کے تو مرنے کے موسم بھی نہ تھے.. (مستنصر حسین تارڑ) Title: Gaza ke Shareer Bachay Author: Mustansar Hussain Tarar Subject: Novelette ISBN: 9693537750 Language: Urdu Year of Publication: 2026 Number of Pages: 80
Variants (1)
- Default Title — 1600.00 PKR — In stock
AI Readiness
Good foundation, but some important product data is still missing.